صفحات

Tuesday, 4 November 2014

اب کے تمہارے دیس کا یہ روپ نیارا تھا

اب کے تمہارے دیس کا یہ روپ نیارا تھا
 بکھرا ہوا ہواؤں میں سایہ تمہارا تھا
 گم سم کھڑے ہیں اونچی فصیلوں کے کنگرے
 کوئی صدا نہیں، مجھے کس نے پکارا تھا
 رات، آسماں پہ چاند کی منڈلی میں کون تھا
 تم تھے کہ اک ستار بجاتا ستارا تھا
ان دوریوں میں قرب کا جادو عذاب تھا
 ورنہ تمہارے ہجر کا غم بھی گوارا تھا
 دل سے جو ٹیس اٹھی، میں یہ سمجھا، پجاریو
 پتھر کے دیوتا کا تڑپتا اشارا تھا
 تالی بجی تو سامنے ناٹک کی رات تھی
 آنکھیں کھلیں تو بجھتے دلوں کا نظارا تھا
 دنیا کے اس بھنور سے جب ابھرتے دکھوں کے بھید
 ایک اک اتھاہ بھید، خود اپنا کنارا تھا
 پھر لوٹ کر نہ آیا زمانے گزر گئے
 وہ لمحہ جس میں ایک زمانہ گزارا تھا

مجید امجد 

No comments:

Post a Comment