کہتے ہیں جس کو عشق ہمارا ہی نام ہے
شور و فغاں کی اپنے یہاں دھوم دھام ہے
گر پھونک دوں جہان کو تو کچھ عجب نہیں
میں آگ کا بھبوکا ہوں، میرا یہ کام ہے
ہوش و خرد سے ہم کو سروکار کچھ نہیں
اِن دونوں صاحبوں کو ہمارا سلام ہے
منزل ہماری پاتے ہیں کب شیخ و برہمن
اسلام و کفر سے پرے اپنا مقام ہے
دیر و حرم میں اور کلیسا کنشت میں
بھرتا ہمارے نام کا دم ہر کدام ہے
پر اک نیازؔ اپنے سے ہمراز ہے کہ وہ
شاہِ نجف، امیرِ عرب کا غلام ہے
شاہ نیاز بریلوی
شور و فغاں کی اپنے یہاں دھوم دھام ہے
گر پھونک دوں جہان کو تو کچھ عجب نہیں
میں آگ کا بھبوکا ہوں، میرا یہ کام ہے
ہوش و خرد سے ہم کو سروکار کچھ نہیں
اِن دونوں صاحبوں کو ہمارا سلام ہے
منزل ہماری پاتے ہیں کب شیخ و برہمن
اسلام و کفر سے پرے اپنا مقام ہے
دیر و حرم میں اور کلیسا کنشت میں
بھرتا ہمارے نام کا دم ہر کدام ہے
پر اک نیازؔ اپنے سے ہمراز ہے کہ وہ
شاہِ نجف، امیرِ عرب کا غلام ہے
شاہ نیاز بریلوی
No comments:
Post a Comment