صفحات

Thursday, 6 November 2014

کہتے ہیں جس کو عشق ہمارا ہی نام ہے​

کہتے ہیں جس کو عشق ہمارا ہی نام ہے​
شور و فغاں کی اپنے یہاں دھوم دھام ہے​
گر پھونک دوں جہان کو تو کچھ عجب نہیں​
میں آگ کا بھبوکا ہوں، میرا یہ کام ہے​
ہوش و خرد سے ہم کو سروکار کچھ نہیں ​
اِن دونوں صاحبوں کو ہمارا سلام ہے​
منزل ہماری پاتے ہیں کب شیخ و برہمن​
اسلام و کفر سے پرے اپنا مقام ہے​
دیر و حرم میں اور کلیسا کنشت میں​
بھرتا ہمارے نام کا دم ہر کدام ہے​
پر اک نیازؔ اپنے سے ہمراز ہے کہ وہ​
شاہِ نجف، امیرِ عرب کا غلام ہے​

شاہ نیاز بریلوی

No comments:

Post a Comment