بلاتے کیوں ہو عاجز کو، بلانا کیا مزا دے ہے
غزل کمبخت کچھ ایسے پڑھے ہے دل ہلا دے ہے
محبت کیا بلا ہے، چین لینا ہی بھلا دے ہے
ذرا بھی آنکھ جھپکے ہے، تو بیتابی جگا دے ہے
ترے ہاتھوں کی سرخی خود ثبوت اس بات کا دے ہے
کہ جو کہہ دے ہے دیوانہ، وہ کر کے بھی دکھا دے ہے
غضب کی فتنہ سازی آئے ہے اس آفتِ جاں کو
شرارت خود کرے ہے اور ہمیں تہمت لگا دے ہے
مِری بربادیوں کا ڈال کر الزام دنیا پر
وہ ظالم اپنے منہ پر ہاتھ رکھ کر مسکرا دے ہے
کلیجا تھام کر سنتے ہیں، لیکن سن ہی لیتے ہیں
مِرے یاروں کو مِرے غم کی تلخی بھی مزا دے ہے
غزل کمبخت کچھ ایسے پڑھے ہے دل ہلا دے ہے
محبت کیا بلا ہے، چین لینا ہی بھلا دے ہے
ذرا بھی آنکھ جھپکے ہے، تو بیتابی جگا دے ہے
ترے ہاتھوں کی سرخی خود ثبوت اس بات کا دے ہے
کہ جو کہہ دے ہے دیوانہ، وہ کر کے بھی دکھا دے ہے
غضب کی فتنہ سازی آئے ہے اس آفتِ جاں کو
شرارت خود کرے ہے اور ہمیں تہمت لگا دے ہے
مِری بربادیوں کا ڈال کر الزام دنیا پر
وہ ظالم اپنے منہ پر ہاتھ رکھ کر مسکرا دے ہے
کلیجا تھام کر سنتے ہیں، لیکن سن ہی لیتے ہیں
مِرے یاروں کو مِرے غم کی تلخی بھی مزا دے ہے
کلیم عاجز
No comments:
Post a Comment