صفحات

Tuesday, 4 November 2014

شعر و غزل میں ڈوبی ہوئی رات ہے میاں

شعر و غزل میں ڈوبی ہوئی رات ہے میاں
تم کیوں کلیمؔ رؤو ہو، کیا بات ہے میاں
دل ٹوٹنے کا سلسلہ دن رات ہے میاں
اس دور میں یہ کوئی نئی بات ہے میاں
ناراضگی کے ساتھ لو، چاہے خوشی سے لو
دردِ جِگر ہی وقت کی سوغات ہے میاں
کچھ کہہ نہیں سکو تو غزل کہہ لیا کرو
 سو بات کی بس ایک یہی بات ہے میاں
لائے خدا ہی اس بُتِ کافر کو راہ پر
 یہ میرے ہاتھ ہے نہ تِرے ہاتھ ہے میاں
 دینے لگیں گے زخم تو دیتے ہی جائیں گے
 وہ ہیں بڑے بڑوں کی بڑی بات ہے میاں
 کچھ اور آنسوؤں کے سوا دیتے ہی نہیں
 ان حسن والوں کی یہی اوقات ہے میاں
ان گیسوؤں کے ہم تو پرانے اسیر ہیں
 تیری تو دو دنوں کی مُلاقات ہے میاں
پھولوں سے کام لیتے ہو پتھر کا، اے کلیمؔ
یہ شاعری نہیں ہے، کرامات ہے میاں

کلیم عاجز

No comments:

Post a Comment