صفحات

Friday, 14 November 2014

مسافرت کے تحیر سے کٹ کے کب آئے

مسافرت کے تحیّر سے کٹ کے کب آئے
جو چوتھی سمت کو نکلے پلٹ کے کب آئے
اب اپنے عکس کو پہچاننا بھی مشکل ہے
ہم اپنے آپ میں حیرت سے کٹ کے کب آئے
اک انتشار تھا گھر میں بھی گھر سے باہر بھی
سنور کے نکلے تھے کس دن سمٹ کے کب آئے
ہم ایسے خلوتیوں سے مکالمے کو یہ لوگ
جہان بھر کی صداؤں سے اَٹ کے کب آئے
یہ گفتگو تو ہے ردِ عمل تِری چُپ کا
جو کہہ رہے ہیں یہ ہم گھر سے رَٹ کے کب آئے
ریاضؔ! دھیان ہم آغوش اُس آئینے سے رہا
خیال اس کے تصور سے ہٹ کے کب آئے

ریاض مجید

No comments:

Post a Comment