صفحات

Friday, 14 November 2014

نہیں بے منظری سے اب کوئی منظر نکلتا ہے

نہیں بے منظری سے اب کوئی منظر نکلتا ہے
کرامت ہو بھی جائے تو الٹ یکسر نکلتا ہے
جو ابتر میری رائے میں ہے وہ بہتر نہیں ہوتا
جسے بہتر سمجھتا ہوں، وہی ابتر نکلتا ہے
رسائی غُل مچاتی ہے تو چادر کھینچ لیتا ہوں
جو کونا نارسائی کا ذرا باہر نکلتا ہے
نہیں کرتا ہے دلجوئی کبھی کاغذ کے پرزے سے
مکاں کے سامنے سے روز نامہ بر نکلتا ہے
کتابِ عمر پڑھتا ہوں کہ ہے دستور مکتب کا
ورق اب جو پلٹتا ہوں سبق ازبر نکلتا ہے
مقید ہوں کہ کھینچی ہے ہوا نے چار دیواری
نہ میری سانس رکتی ہے نہ اس میں در نکلتا ہے
اڑاتا ہوں ہمیشہ خاک باہر رائیگانی کی
ادھر جاتا نہیں جو راستہ اندر نکلتا ہے

اعجاز گل

No comments:

Post a Comment