نہیں بے منظری سے اب کوئی منظر نکلتا ہے
کرامت ہو بھی جائے تو الٹ یکسر نکلتا ہے
جو ابتر میری رائے میں ہے وہ بہتر نہیں ہوتا
جسے بہتر سمجھتا ہوں، وہی ابتر نکلتا ہے
رسائی غُل مچاتی ہے تو چادر کھینچ لیتا ہوں
جو کونا نارسائی کا ذرا باہر نکلتا ہے
نہیں کرتا ہے دلجوئی کبھی کاغذ کے پرزے سے
مکاں کے سامنے سے روز نامہ بر نکلتا ہے
کتابِ عمر پڑھتا ہوں کہ ہے دستور مکتب کا
ورق اب جو پلٹتا ہوں سبق ازبر نکلتا ہے
مقید ہوں کہ کھینچی ہے ہوا نے چار دیواری
نہ میری سانس رکتی ہے نہ اس میں در نکلتا ہے
اڑاتا ہوں ہمیشہ خاک باہر رائیگانی کی
ادھر جاتا نہیں جو راستہ اندر نکلتا ہے
کرامت ہو بھی جائے تو الٹ یکسر نکلتا ہے
جو ابتر میری رائے میں ہے وہ بہتر نہیں ہوتا
جسے بہتر سمجھتا ہوں، وہی ابتر نکلتا ہے
رسائی غُل مچاتی ہے تو چادر کھینچ لیتا ہوں
جو کونا نارسائی کا ذرا باہر نکلتا ہے
نہیں کرتا ہے دلجوئی کبھی کاغذ کے پرزے سے
مکاں کے سامنے سے روز نامہ بر نکلتا ہے
کتابِ عمر پڑھتا ہوں کہ ہے دستور مکتب کا
ورق اب جو پلٹتا ہوں سبق ازبر نکلتا ہے
مقید ہوں کہ کھینچی ہے ہوا نے چار دیواری
نہ میری سانس رکتی ہے نہ اس میں در نکلتا ہے
اڑاتا ہوں ہمیشہ خاک باہر رائیگانی کی
ادھر جاتا نہیں جو راستہ اندر نکلتا ہے
اعجاز گل
No comments:
Post a Comment