صفحات

Sunday, 16 November 2014

جہان فن میں وہی شخص نام پاتا ہے

جہانِ فن میں وہی شخص نام پاتا ہے
جو حرف حرف کو دل کا لہو پلاتا ہے
جو ظاہراً نہیں آیا ہے ایک مدت سے
وہ روز یاد کے آنگن میں آتا جاتا ہے
ہوائے شوق سے اک بار جو گزر جائے
 تمام عمر ہواؤں سے خوف کھاتا ہے
تمہاری یاد مرے ساتھ ساتھ چلتی ہے
تمہارا عکس مجھے راستہ دکھاتا ہے
اسے کہو کہ وہ نانِ جویں کی فکر کرے
فلک سے روز ستارے جو توڑ لاتا ہے
خزاں کی شام میں امید کا پیمبر دل
نویدِ صبحِ بہاراں سنائے جاتا ہے
طلوعِ صبح کا منظر ہے سب کی آنکھوں میں
اس اعتماد سے کوئی دِیا بجھاتا ہے
کبھی کبھی تو مرا دم نکلنے لگتا ہے
کبھی کبھی وہ مجھے اتنا یاد آتا ہے
اسے بتا دے کوئی وقت نے ٹھہرنا نہیں
تمہاری یاد کا موسم گزرتا جاتا ہے

افتخار حیدر

No comments:

Post a Comment