صفحات

Sunday, 16 November 2014

اب نہیں رہے وہ لوگ

اب نہیں رہے وہ لوگ
خون تھوکنے والے
زخم چھیلنے والے
رات جاگنے والے
بھوک کاٹنے والے
شعر بھوگنے والے
درد جھیلنے والے
اب نہیں رہے وہ لوگ

٭
سطر سطر لفظوں کو جو لہو پلاتے تھے
اب نہیں رہے وہ لوگ
پہلے دل کے زخموں کی پونیاں بناتے تھے
اور دماغ کا چرخہ رات دن چلاتے تھے
پھر خیال کا دھاگہ
شاعری کی کھڈی پر
سینت سینت بُنتے تھے
کاٹ چھانٹ کرتے تھے
پھر سخن کی چادر کو اوڑھ کر نکلتے تھے
شان سے ٹہلتے تھے

٭
اب نہیں رہے وہ لوگ
اب تو خود پسندی ہے
اور گروہ بندی ہے
چار چار کی ٹولی، شاعری بناتی ہے
اور ایک دوجے سے، فن کی داد پاتی ہے

افتخار حیدر

No comments:

Post a Comment