اب نہیں رہے وہ لوگ
خون تھوکنے والے
زخم چھیلنے والے
رات جاگنے والے
بھوک کاٹنے والے
شعر بھوگنے والے
درد جھیلنے والے
اب نہیں رہے وہ لوگ
خون تھوکنے والے
زخم چھیلنے والے
رات جاگنے والے
بھوک کاٹنے والے
شعر بھوگنے والے
درد جھیلنے والے
اب نہیں رہے وہ لوگ
٭
سطر سطر لفظوں کو جو لہو پلاتے تھے
اب نہیں رہے وہ لوگ
پہلے دل کے زخموں کی پونیاں بناتے تھے
اور دماغ کا چرخہ رات دن چلاتے تھے
پھر خیال کا دھاگہ
شاعری کی کھڈی پر
سینت سینت بُنتے تھے
کاٹ چھانٹ کرتے تھے
پھر سخن کی چادر کو اوڑھ کر نکلتے تھے
شان سے ٹہلتے تھے
سطر سطر لفظوں کو جو لہو پلاتے تھے
اب نہیں رہے وہ لوگ
پہلے دل کے زخموں کی پونیاں بناتے تھے
اور دماغ کا چرخہ رات دن چلاتے تھے
پھر خیال کا دھاگہ
شاعری کی کھڈی پر
سینت سینت بُنتے تھے
کاٹ چھانٹ کرتے تھے
پھر سخن کی چادر کو اوڑھ کر نکلتے تھے
شان سے ٹہلتے تھے
٭
اب نہیں رہے وہ لوگ
اب تو خود پسندی ہے
اور گروہ بندی ہے
چار چار کی ٹولی، شاعری بناتی ہے
اور ایک دوجے سے، فن کی داد پاتی ہے
افتخار حیدر
No comments:
Post a Comment