شکستِ ذات سے فریاد کر کے رو پڑا ہوں
میں مدت بعد اس کو یاد کر کے رو پڑا ہوں
مجھے تنہائی کے آسیب سے ڈر لگ رہا تھا
میں سمجھوتہ تمہارے بعد کر کے رو پڑا ہوں
کسے معلوم ہے اندر سے میں کتنا دکھی ہوں
فسُردہ انجمن کو شاد کر کے رو پڑا ہوں
ہے میرے ہاتھ میں کاسہ، وہ سونا بانٹتے تھے
خیالِ عظمتِ اجداد کر کے رو پڑا ہوں
میں اپنے باپ کے مرنے پہ بھی رویا بہت تھا
اور اب تقسیمِ جائیداد کر کے رو پڑا ہوں
مجھے سالکؔ پرندے سے محبت بھی بہت تھی
اسے میں قید سے آزاد کر کے رو پڑا ہوں
میں مدت بعد اس کو یاد کر کے رو پڑا ہوں
مجھے تنہائی کے آسیب سے ڈر لگ رہا تھا
میں سمجھوتہ تمہارے بعد کر کے رو پڑا ہوں
کسے معلوم ہے اندر سے میں کتنا دکھی ہوں
فسُردہ انجمن کو شاد کر کے رو پڑا ہوں
ہے میرے ہاتھ میں کاسہ، وہ سونا بانٹتے تھے
خیالِ عظمتِ اجداد کر کے رو پڑا ہوں
میں اپنے باپ کے مرنے پہ بھی رویا بہت تھا
اور اب تقسیمِ جائیداد کر کے رو پڑا ہوں
مجھے سالکؔ پرندے سے محبت بھی بہت تھی
اسے میں قید سے آزاد کر کے رو پڑا ہوں
ابرار سالک
No comments:
Post a Comment