صفحات

Tuesday, 4 November 2014

یارِ دیرینہ ہے پر روز ہے وہ یار نیا

یارِ دیرینہ ہے، پر روز ہے وہ یار نیا
ہر ستم اس کا نیا، اس کا ہے ہر پیار نیا
نئے انداز کا ہے دامِ بلا طرۂ یار
روز ہے ایک نہ اک اس میں گرفتار نیا
تیری ہاں میں ہے نہیں اور نہیں میں ہے ہاں
تیرا اقرار نیا ہے، تِرا انکار نیا
کیسے بے درد دلِ آزار کو دل ہم نے دیا
روز ہے درد نیا، روز اک آزار نیا
کیا قیامت ہے ستمگار تِری طرزِ خرام
فتنہ ہر گام پہ اٹھا دمِ رفتار نیا
کریں وہ کس کی دوا دیکھتے ہیں روز طبیب
تیرے اس نرگسِ بیمار کا بیمار نیا
پھیر لے اس سے ظفرؔ دل کا جو سودا پھر جائے
ایک موجود ہے اور اس کا خریدار نیا

 بہادر شاہ ظفر

No comments:

Post a Comment