صفحات

Tuesday, 4 November 2014

ہمارے آپ خفا ہو کے کیا مکاں سے گئے

ہمارے آپ خفا ہو کے کیا مکاں سے گئے
تمہارے جانے سے یاں ہم بھی اپنی جاں سے گئے
گئے جو کوچۂ قاتل میں آہ، حضرتِ دل
مِری طرف سے وہ اے ہمدمو! جہاں سے گئے
نہ آیا شام کے وعدے پہ تو جو ماہ لقا
خدنگ آہ، گزر اپنی آسماں سے گئے
گئے جو ہم سے خفا ہو کے حضرتِ ناصح
بُرا بھلا ہمیں کہتے ہوئے زباں سے گئے
ق
گلی میں یار کی ہم آج شب کو اے ہمدم
بتائیں کیا کہ کدھر سے گئے کہاں سے گئے
صبا کی طرح سے آنکھوں میں سب کی ڈال کے خاک
نظر بچا کے ہر اک داں کے پاسباں سے گئے
لگایا تجھ سے جو دو روز ہم نے اپنا دل
تو کچھ نہ پوچھو کہ آرامِ جاوداں سے گئے
ظفرؔ جو پہنچے وہاں ہم خدا خدا کر کے
تمام عمر نہ پھر کوچۂ بتاں سے گئے

بہادرشاہ ظفر

No comments:

Post a Comment