یہ سوزِ غم نے کیا خشک خوں جگر میں سے
کہ ایک بوند بھی نکلی نہ چشمِ تر میں سے
بلائیں سینکڑوں اس مانگ میں ہیں دل کے لیے
خدا بچائے اسے راہِ پُرخطر میں سے
پڑی جو خاکِ درِ یار اڑ کے آنکھوں میں
تو خیرگی وہیں جاتی رہی نظر میں سے
نہیں جو اس دلِ سنگیں میں گرمئ الفت
الٰہی! آگ کہاں گم ہوئی حجر میں سے
کُھلے تو کیونکر کُھلے حالِ رفتگانِ عدم
کہ پِھر کے آتا نہیں کوئی اس سفر میں سے
سنا جو در پہ ہے مشتاق کوئی خانہ خراب
قدم نکالتے باہر نہیں وہ گھر میں سے
یہ برق ہو کہ ظفرؔ ابرِ تر کے دامن میں
جھڑا شرارہ کوئی آہِ پُر شرر میں سے
بہادرشاہ ظفر
کہ ایک بوند بھی نکلی نہ چشمِ تر میں سے
بلائیں سینکڑوں اس مانگ میں ہیں دل کے لیے
خدا بچائے اسے راہِ پُرخطر میں سے
پڑی جو خاکِ درِ یار اڑ کے آنکھوں میں
تو خیرگی وہیں جاتی رہی نظر میں سے
نہیں جو اس دلِ سنگیں میں گرمئ الفت
الٰہی! آگ کہاں گم ہوئی حجر میں سے
کُھلے تو کیونکر کُھلے حالِ رفتگانِ عدم
کہ پِھر کے آتا نہیں کوئی اس سفر میں سے
سنا جو در پہ ہے مشتاق کوئی خانہ خراب
قدم نکالتے باہر نہیں وہ گھر میں سے
یہ برق ہو کہ ظفرؔ ابرِ تر کے دامن میں
جھڑا شرارہ کوئی آہِ پُر شرر میں سے
بہادرشاہ ظفر
No comments:
Post a Comment