صفحات

Tuesday, 4 November 2014

ہماری دوستی سے دشمنی شرمائی رہتی ہے

ہماری دوستی سے دشمنی شرمائی رہتی ہے
ہم اکبر ہیں ہمارے دل میں جودھا بائی رہتی ہے
کسی کا پوچھنا کب تک ہمارے راہ دیکھو گے
ہمارا فیصلہ جب تک کہ یہ بینائی رہتی ہے
میری صحبت میں بھیجو تاکہ اس کا ڈر نکل جائے
بہت سہمی ہوئے دربار میں سچائی رہتی ہے
گلے شکوے ضروری ہیں اگر سچی محبت ہے
جہاں پانی بہت گہرا ہو، تھوڑی کائی رہتی ہے
بس اک دن پھوٹ کر رویا تھا میں تیری محبت میں
مگر آواز میری آج تک بھرائی رہتی ہے
خدا محفوظ رکھے ملک کو گندی سیاست سے
شرابی دیوروں کے بیچ میں بھوجائی رہتی ہے

منور رانا 

No comments:

Post a Comment