بھوک چہروں پہ لیے چاند سے پیارے بچے
بیچتے پھرتے ہیں گلیوں میں غبارے بچے
ان ہواؤں سے تو بارُود کی بُو آتی ہے
ان فضاؤں میں تو مر جائیں گے سارے بچے
کیا بھروسا ہے سمندر کا، خدا خیر کرے
سِیپیاں چننے گئے ہیں مِرے سارے بچے
ہو گیا چرخِ ستم گر کا کلیجا ٹھنڈا
مر گئے پیاس سے دریا کے کنارے بچے
یہ ضروری ہے نئے کل کی ضمانت دی جائے
ورنہ سڑکوں پہ نکل آئیں گے سارے بچے
بیدل حیدری
بیچتے پھرتے ہیں گلیوں میں غبارے بچے
ان ہواؤں سے تو بارُود کی بُو آتی ہے
ان فضاؤں میں تو مر جائیں گے سارے بچے
کیا بھروسا ہے سمندر کا، خدا خیر کرے
سِیپیاں چننے گئے ہیں مِرے سارے بچے
ہو گیا چرخِ ستم گر کا کلیجا ٹھنڈا
مر گئے پیاس سے دریا کے کنارے بچے
یہ ضروری ہے نئے کل کی ضمانت دی جائے
ورنہ سڑکوں پہ نکل آئیں گے سارے بچے
بیدل حیدری
No comments:
Post a Comment