صفحات

Saturday, 15 November 2014

دل کشمکش رنج و محن سے نہیں نکلا

دل کشمکشِ رنج و محن سے نہیں نکلا
یہ چاند ابھی اپنے گہن سے نہیں نکلا
معتوب سام مصلوب سام زندانئ غم سا
انسان ابھی قیدِ بدن سے نہیں نکلا
اس دور کو یہ حبس وراثت میں مِلا ہے
اس واسطے یہ دور گھٹن سے نہیں نکلا
کل میں نے گریبان سے پکڑا جو جنوں کو
اک پھول بھی دامانِ چمن سے نہیں نکلا
میں سوکھی ہوئی جھیل کا وہ ہنس ہوں بیدلؔ
جو پیٹ کی خاطر بھی وطن سے نہیں نکلا

بیدل حیدری

No comments:

Post a Comment