جورِ حبیب و پرسشِ اغیار ایک سے
گو زخم الگ الگ ہیں مگر وار ایک سے
ہر گھر میں اپنے اپنے بہار و خزاں کے رنگ
یوں دیکھنے میں ہیں در و دیوار ایک سے
بے اعتمادیوں کی فضا کارواں میں ہے
ہر بار زندگی نے نئے تجربے دیے
ہر چند اور لوگ تھے ہر بار ایک سے
ایک ربطِ خاص ہم کو رقیبوں سے ہے کہ ہیں
دلدادگانِ عشق کو آزار ایک سے
اب بیش و کم کی بات نہ کر دوستوں کے بیچ
ہم کو سبھی نے زخم دیے یار ایک سے
جب دشمنی کی فصل ہو تب دوست بھی عدو
جب دوستی کے دن ہو تو سب یار ایک سے
وہ مےکشانِ شہر ہوں یا واعظانِ دیں
کردار الگ الگ ہیں اداکار ایک سے
رہیں خوش کہ روزِ حشر کچھ انصاف تو ملا
اچھا ہوا کہ سب ہیں گنہگار ایک سے
دلدارئ حبیب کہ آشوبِ دہر ہو
سب مرحلے فرازؔ ہیں دشوار ایک سے
احمد فراز
No comments:
Post a Comment