صفحات

Saturday, 8 November 2014

ممکن ہے یا محال ابھی یا کبھی نہیں

ممکن ہے یا محال، ابھی یا کبھی نہیں
کل پر نہ بات ٹال، ابھی یا کبھی نہیں
یہ وحشت و جنوں کی ملاقات پھر کہاں
چل ساتھ اے غزال! ابھی یا کبھی نہیں
کل جانے کس کے ہاتھ میں ہو کاسہ میرے دوست
ہے آج کا سوال، ابھی یا کبھی نہیں
ہم خاک ہو گئے تو سنبھالے نہ جائیں گے
بڑھ کر ہمیں سنبھال، ابھی یا کبھی نہیں
جب عشق ہو گیا تو پھر پیش و پس سے کیا
یا ہجر یا وصال، ابھی یا کبھی نہیں
فردا کا فاصلہ بھی کسی سے ہوا ہے طے
ہو جا شریکِ حال، ابھی یا کبھی نہیں
اس وقت دردِ قرب کو آرام چاہیے
دل ہے بہت نڈھال ابھی یا کبھی نہیں
ساری حقیقتوں کی حقیقت ہے اک خیال
یعنی کہ یہ خیال ابھی یا کبھی نہیں
تعمیل چاہتا ہے قیامت کا فیصلہ
اے ربِ ذوالجلال ابھی یا کبھی نہیں

لیاقت علی عاصم

No comments:

Post a Comment