ہونٹ پتھرا سے گئے آنکھ نے جنبش نہیں کی
پھر بھی تجھ کو یہ گلہ ہے کہ ستائش نہیں کی
تجھ پہ لکھی تھی غزل، بر سرِ محفل نہ پڑھی
تیری تصویر بنائی تھی، نمائش نہیں کی
تُو نے کی ہو گی بچھڑنے میں کوئی کوتاہی
میں نے تجدیدِ ملاقات کی کوشش نہیں کی
تم تو بت بن کے خدائی پہ اتر آئے ہو
ہم نے تو صرف منایا ہے پرستش نہیں کی
اس قدر ٹوٹ چکا تھا مِرا پندارِ صدا
پھر وہ آیا بھی تو رکنے کی گزارش نہیں کی
ڈوبنے والے کی وحشت سے سبھی ڈرتے ہیں
دکھ تو اس بات کا ہے میں نے بھی کوشش نہیں کی
شعر جیسے بھی کہے ہوں مگر اس ناز کے ساتھ
میں نے شہرت کے لیے شہر میں سازش نہیں کی
پھر بھی تجھ کو یہ گلہ ہے کہ ستائش نہیں کی
تجھ پہ لکھی تھی غزل، بر سرِ محفل نہ پڑھی
تیری تصویر بنائی تھی، نمائش نہیں کی
تُو نے کی ہو گی بچھڑنے میں کوئی کوتاہی
میں نے تجدیدِ ملاقات کی کوشش نہیں کی
تم تو بت بن کے خدائی پہ اتر آئے ہو
ہم نے تو صرف منایا ہے پرستش نہیں کی
اس قدر ٹوٹ چکا تھا مِرا پندارِ صدا
پھر وہ آیا بھی تو رکنے کی گزارش نہیں کی
ڈوبنے والے کی وحشت سے سبھی ڈرتے ہیں
دکھ تو اس بات کا ہے میں نے بھی کوشش نہیں کی
شعر جیسے بھی کہے ہوں مگر اس ناز کے ساتھ
میں نے شہرت کے لیے شہر میں سازش نہیں کی
لیاقت علی عاصم
No comments:
Post a Comment