صفحات

Thursday, 6 November 2014

گنوائی کس کی تمنا میں زندگی میں نے

گنوائی کس کی تمنا میں زندگی میں نے
 وہ کون ہے جسے دیکھا نہیں کبھی میں نے
 ترا خیال تو ہے، پر ترا وجود نہیں
 ترے لئے تو یہ محفل سجائی تھی میں نے
ترے عدم کو گوارا نہ تھا وجود مرا
 سو اپنی بیخ کنی میں کمی نہ کی میں نے
 ہیں میرے ذات سے منسوب صد فسانۂ عشق
 اور ایک سطر بھی اب تک نہیں‌ لکھی میں نے
 میرے حریف مری یکہ تازیوں‌ پہ نثار
 تمام عمر حلیفوں سے جنگ کی میں نے
 خراش نغمہ سے سینہ چھِلا ہوا ہے مرا
 فغاں کہ ترک نہ کی نغمہ پروری میں نے
 دوا سے فائدہ مقصود تھا ہی کب کہ فقط
 دوا کے شوق میں صحت تباہ کی میں نے
 سرورِ مئے پہ بھی غالب رہا شعور مرا
 کہ ہر رعایتِ غم ذہن میں رکھی میں نے
 غمِ شعور کوئی دم تو مجھ کو مہلت دے
 تمام عمر جلایا ہے اپنا جی میں نے
 رہا میں شاہدِ تنہا، نشینِ مسندِ غم
 اور اپنے کربِ انا سے غرض رکھی میں نے

جون ایلیا

No comments:

Post a Comment