صفحات

Thursday, 6 November 2014

آگے پہنچاتے تھے واں تک خط و پیغام کو دوست

آگے پہنچاتے تھے واں تک خط و پیغام کو دوست ​
اب تو دنیا میں رہا کوئی نہیں نام کو دوست​
دوست یک رنگ کہاں جبکہ زمانہ ہو دو رنگ ​
کہ وہی صبح کو دشمن ہے، جو ہے شام کو دوست​
میرے نزدیک ہے واللہ! وہ دشمن اپنا ​
جانتا جو کہ ہے اس کافرِ خودکام کو دوست​
دوستی تجھ سے جو اے دشمنِ آرام ہوئی
نہ میں راحت کو سمجھتا ہوں نہ آرام کو دوست​
اے ظفرؔ! دوست ہیں آغازِ ملاقات میں سب​
دوست پر ہے وہی، جو شخص ہو انجام کو دوست​

 بہادر شاہ ظفر

No comments:

Post a Comment