آگے پہنچاتے تھے واں تک خط و پیغام کو دوست
اب تو دنیا میں رہا کوئی نہیں نام کو دوست
دوست یک رنگ کہاں جبکہ زمانہ ہو دو رنگ
کہ وہی صبح کو دشمن ہے، جو ہے شام کو دوست
میرے نزدیک ہے واللہ! وہ دشمن اپنا
جانتا جو کہ ہے اس کافرِ خودکام کو دوست
دوستی تجھ سے جو اے دشمنِ آرام ہوئی
نہ میں راحت کو سمجھتا ہوں نہ آرام کو دوست
اے ظفرؔ! دوست ہیں آغازِ ملاقات میں سب
دوست پر ہے وہی، جو شخص ہو انجام کو دوست
بہادر شاہ ظفر
اب تو دنیا میں رہا کوئی نہیں نام کو دوست
دوست یک رنگ کہاں جبکہ زمانہ ہو دو رنگ
کہ وہی صبح کو دشمن ہے، جو ہے شام کو دوست
میرے نزدیک ہے واللہ! وہ دشمن اپنا
جانتا جو کہ ہے اس کافرِ خودکام کو دوست
دوستی تجھ سے جو اے دشمنِ آرام ہوئی
نہ میں راحت کو سمجھتا ہوں نہ آرام کو دوست
اے ظفرؔ! دوست ہیں آغازِ ملاقات میں سب
دوست پر ہے وہی، جو شخص ہو انجام کو دوست
بہادر شاہ ظفر
No comments:
Post a Comment