Thursday, 6 November 2014

ٹکڑے نہیں جگر کے ہیں اشکوں کے تار میں

ٹکڑے نہیں جگر کے ہیں اشکوں کے تار میں
یہ لعل موتیوں کے پروئے ہیں ہار میں
قطرے نہیں پسینہ کے ہیں زلفِ یار میں
درانی آ گئے ہیں یہ ملکِ تَتار میں
سرمہ نہیں لگا ہوا مژگانِ یار میں
ہے زنگ سا لگا ہوا خنجر کی دھار میں
ساقی شتاب دے مجھے تو بھر کے جامِ مے
بیٹھا ہوں بے حواس نشہ کے اتار میں
ہم حسنِ گندمی پہ تِرے ہو کے شیفتہ
کیا کیا ذلیل و خوار ہیں قرب و جوار میں
بعد از فنا بھی کم نہ ہوئی سوزشِ جگر
گرمی ہے اب تلک مِرے خاکِ مزار میں
سایہ میں زلف کے ہے کہاں روئے تابناک
ہے چاند سا چھپا ہوا ابر بہار میں
مثلِ غبار اٹھ کے جو تیری گلی سے جائے
طاقت کہاں ہے اتنی تِرے خاکسار میں
اس رشکِ گل کو اب تو دیا ہم نے دل ظفرؔ
کہہ دیں گے ہم زبان سے سو میں ہزار میں

 بہادر شاہ ظفر

No comments:

Post a Comment