صفحات

Friday, 7 November 2014

کوئی منزل تھی کہاں ترک طلب سے آگے

کوئی منزل تھی کہاں ترکِ طلب سے آگے
پھر بھی ہم ہیں کہ چلے جاتے ہیں سب سے آگے
اب کہاں جاں کے عوض جنسِ وفا ملتی ہے
یہ مگر شہر کا دستور تھا اب سے آگے
کون کہتا ہے نہیں چارۂ بیمارئ دل
ایک مے خانہ بھی پڑتا ہے مطب سے آگے
'نہ بہ زورے نہ بہ زاری نہ بہ زر می آید'
بات بڑھتی ہی نہیں ہے کسی ڈھب سے آگے
تجھ کو اب کیسے بتائیں وہ ترا ہجر نہ تھا
ہم پریشاں تھے کسی اور سبب سے آگے
جب سے یہ سلسلۂ تیغ و گلو جاری ہے
اہلِ دل اہلِ زمانہ سے ہیں تب سے آگے
ہم کہ شائستۂ تہذیبِ محبت ہیں فرازؔ
ہم نے رکھا نہ قدم حدِ ادب سے آگے

احمد فراز

No comments:

Post a Comment