کفن بدوش، کہیں سر بکف لیے پھری ہے
یہ زندگی مجھے کس کس طرف لیے پھری ہے
مری طلب اسے جنگاہ میں بھی لے جاتی
مری تلاش اسے صف بہ صف لیے پھری ہے
میں رزم گاہ میں ہوتا تو پاگلوں کی طرح
یہ سرزمین مرے خوں سے سرخرو نہ ہوئی
یہ خاک مرے لہو کا شرف لیے پھری ہے
سو بے نیاز رہے دوستوں سے ہم کہ یہ جاں
خود اپنا تیر، خود اپنا ہدف لیے پھری ہے
فرازؔ درخورِ قاتل نہ تھے ہمی، ورنہ
ہمیں بھی جوششِ خوں سربکف لیے پھری ہے
احمد فراز
No comments:
Post a Comment