جیسے جیسے وقت گزرتا جاتا ہے
زخم تمہارے ہجر کا بھرتا جاتا ہے
کنکر پھینکنے والوں کو کچھ علم نھیں
پانی میں اک عکس بکھرتا جاتا ہے
دل کی غربت سارے گھر میں پھیل گئی
بجھتی آنکھ کے سائے پھیلتے جاتے ہیں
شام کا منظر اور نکھرتا جاتا ہے
محسنؔ! اس نے دل کا شہر اجاڑ دیا
میں سمجھا تھا بخت سنورتا جاتا ہے
محسن نقوی
No comments:
Post a Comment