صفحات

Saturday, 15 November 2014

جیسے جیسے وقت گزرتا جاتا ہے

جیسے جیسے وقت گزرتا جاتا ہے
زخم تمہارے ہجر کا بھرتا جاتا ہے
کنکر پھینکنے والوں کو کچھ علم نھیں
پانی میں اک عکس بکھرتا جاتا ہے
دل کی غربت سارے گھر میں پھیل گئی
تصویروں سے رنگ اترتا جاتا ہے
بجھتی آنکھ کے سائے پھیلتے جاتے ہیں
شام کا منظر اور نکھرتا جاتا ہے
محسنؔ! اس نے دل کا شہر اجاڑ دیا
میں سمجھا تھا بخت سنورتا جاتا ہے

محسن نقوی

No comments:

Post a Comment