صفحات

Saturday, 15 November 2014

میں کیا کروں مجھے اظہار تک نہیں آتا

جون ایلیا کی ایک غیر مطبوعہ غزل

میں کیا کروں، مجھے اظہار تک نہیں آتا
ہے اس سے پیار، مگر پیار تک نہیں آتا
سخن تو ذات کی بربادئ ہمیشہ ہے
یہ سلسلہ کبھی گھر بار تک نہیں آتا
چُرا کے لے گئے گفتار کو مری، وہ یار
جنہیں طریقۂ گفتار تک نہیں آتا
فغاں، او میری زلیخا! کہ ہوں میں وہ یوسفؑ
جو ایک دم کو بھی بازار تک نہیں آتا
عجب شِکَوہ ہے میرا، عجب مری نَخوَت
ہوں میں وہ شاہ جو، دربار تک نہیں آتا
یہ حشرِ ناز کہ بس، اور یہ تیز تیز نفس
تمہیں، سلیقۂ انکار تک نہیں آتا

جون ایلیا

No comments:

Post a Comment