فراق کیا ہے اگر یادِ یار دل میں رہے
خزاں سے کچھ نہیں ہوتا، بہار دل میں رہے
گزار روز و شبِ وصل اک نگار کے ساتھ
وہ ہے ایک شبِ انتظار، دل میں رہے
تو اپنی ذات کے باہر نہ بکھریو زنہار
نہ ہو اگر نہیں دیوار ہائے نقش و نگار
خیالِ پرتوِ نقش و نگار، دل میں رہے
لبوں کا یہ ہے کہ رشتہ سبھی سے ہے ان کا
بنے نہ جس سے لبوں کی وہ خار دل میں رہے
تو بیچ دے سرِ بازار ہوش دل اپنا
ہو اک خیال جو دیوانہ وار دل میں رہے
جون ایلیا
No comments:
Post a Comment