جب تری خواہش کے بادل چھٹ گئے
ہم بھی اپنے سامنے سے ہٹ گئے
رنگِ سرشاری کی تھی جِن سے رسد
دل کی ان فصلوں کے جنگل کٹ گئے
اک چراغاں ہے حرم میں، دَیر میں
شہرِ دل اور شہرِ دنیا، الوداع
ہم تو دونوں کی طرف سے کٹ گئے
ہو گیا سکتہ خرد مندوں کو جب
مات کھاتے ہی دِوانے ڈٹ گئے
چاند سورج کے عالم اور واپسی
وہ ہوا ماتم کہ سینے پھٹ گئے
کیا بتائیں کتنے شرمندہ ہیں ہم
تجھ سے مِل کر اور بھی ہم گھٹ گئے
جون ایلیا
No comments:
Post a Comment