Saturday, 15 November 2014

جب تری خواہش کے بادل چھٹ گئے

جب تری خواہش کے بادل چھٹ گئے
ہم بھی اپنے سامنے سے ہٹ گئے
رنگِ سرشاری کی تھی جِن سے رسد
دل کی ان فصلوں کے جنگل کٹ گئے
اک چراغاں ہے حرم میں، دَیر میں
جشن اس کا ہے دل و جاں بٹ گئے
شہرِ دل اور شہرِ دنیا، الوداع
ہم تو دونوں کی طرف سے کٹ گئے
ہو گیا سکتہ خرد مندوں کو جب
مات کھاتے ہی دِوانے ڈٹ گئے
چاند سورج کے عالم اور واپسی
وہ ہوا ماتم کہ سینے پھٹ گئے
کیا بتائیں کتنے شرمندہ ہیں ہم
تجھ سے مِل کر اور بھی ہم گھٹ گئے

جون ایلیا

No comments:

Post a Comment