Saturday, 15 November 2014

فراق کیا ہے اگر یاد یار دل میں رہے

فراق کیا ہے اگر یادِ یار دل میں رہے
خزاں سے کچھ نہیں ہوتا، بہار دل میں رہے
گزار روز و شبِ وصل اک نگار کے ساتھ
وہ ہے ایک شبِ انتظار، دل میں رہے
تو اپنی ذات کے باہر نہ بکھریو زنہار
فضا کو صاف رکھیو، غبار دل میں رہے
نہ ہو اگر نہیں دیوار ہائے نقش و نگار
خیالِ پرتوِ نقش و نگار، دل میں رہے
لبوں کا یہ ہے کہ رشتہ سبھی سے ہے ان کا
بنے نہ جس سے لبوں کی وہ خار دل میں رہے
تو بیچ دے سرِ بازار ہوش دل اپنا
ہو اک خیال جو دیوانہ وار دل میں رہے

جون ایلیا

No comments:

Post a Comment