صفحات

Saturday, 15 November 2014

آنکھوں کو ویزا نہیں لگتا

آنکھوں کو ویزا نہیں لگتا

آنکھوں کو ویزا نہیں لگتا
سپنوں کی سرحد ہوتی نہیں 
بند آنکھوں سے روز میں
سرحد پار چلا جاتا ہوں
ملنے مہدی حسن سے
٭
سنتا ہوں ان کی آواز کو چوٹ لگی ہے
اور غزل خاموش ہے، سامنے بیٹھی ہے 
کانپ رہے ہیں ہونٹ غزل کے
پھر بھی ان آنکھوں کا لہجہ بدلا نہیں
٭
جب کہتے ہیں
سوکھ گئے ہیں پھول کتابوں میں
یار فرازؔ بھی بچھڑ گئے ہیں
شاید مِلیں وہ خوابوں میں
٭
بند آنکھوں سے اکثر سرحد پار چلا جاتا ہوں میں
آنکھوں کو ویزا نہیں لگتا
سپنوں کی سرحد نہیں ہوتی

گلزار

No comments:

Post a Comment