آنکھوں کو ویزا نہیں لگتا
آنکھوں کو ویزا نہیں لگتا
سپنوں کی سرحد ہوتی نہیں
بند آنکھوں سے روز میں
سرحد پار چلا جاتا ہوں
٭
سنتا ہوں ان کی آواز کو چوٹ لگی ہے
اور غزل خاموش ہے، سامنے بیٹھی ہے
کانپ رہے ہیں ہونٹ غزل کے
پھر بھی ان آنکھوں کا لہجہ بدلا نہیں
٭
جب کہتے ہیں
سوکھ گئے ہیں پھول کتابوں میں
یار فرازؔ بھی بچھڑ گئے ہیں
شاید مِلیں وہ خوابوں میں
٭
بند آنکھوں سے اکثر سرحد پار چلا جاتا ہوں میں
آنکھوں کو ویزا نہیں لگتا
سپنوں کی سرحد نہیں ہوتی
گلزار
No comments:
Post a Comment