میں اپنے گھر میں ہی اجنبی
میں اپنے گھر میں ہی اجنبی ہو گیا ہوں آ کر
مجھے یہاں دیکھ کر مری روح ڈر گئی ہے
دبک کے سب آرزوئیں کونوں میں جا چھپی ہیں
لَویں بجھا دی ہیں اپنے چہروں کی حسرتوں نے
مُرادیں دہلیز پہ ہی سر رکھ کے مر گئی ہیں
میں کس وطن کو تلاش کرنے چلا تھا گھر سے
کہ اپنے گھر میں بھی اجنبی ہو گیا ہوں آ کر
گلزار
No comments:
Post a Comment