بحرِ مواج کی آشُفتہ سری میری ہے
ریگِ ساحل پہ سبھی نقش گری میری ہے
تُو بہر رنگ، بہر سمت ہے موجود، مگر
تُو نظر آئے نہ گر، کم نظری میری ہے
فہم و ادراک و خبر، سب مری املاک میں ہیں
وہ جو روپوش ہوا ہے، مجھے ظاہر کر کے
اس کو پانے کا جتن درد سری میری ہے
اس کی تخلیق کے ہیں سارے مظاہر، لیکن
زعم انساں کو ہے، یہ کاریگری میری ہے
دیکھنے والوں کو مقدور کہاں تھا پہلے
اس کی تشکیل کا فن، بے بصری میری ہے
ایک دن میں ترے در تک بھی پہنچ جاؤں گا
میرے ہمراہ اگر دربدری میری ہے
یہ کسی اور کی ہے جلوہ نمائی محسنؔ
عکس میرا ہے، نہ آئینہ گری میری ہے
محسن بھوپالی
No comments:
Post a Comment