صفحات

Friday, 14 November 2014

سیر دنیا سے پلٹ کر جب قدم گھر میں رکھا

سیرِ دنیا سے پلٹ کر جب قدم گھر میں رکھا 
دیر تک خود کو حصارِ روزن و در میں رکھا 
اے زمانے! کچھ تو میرے حوصلے کی داد دے
خواہشیں حسرت بنیں، سودا مگر سر میں رکھا 
میں یہاں آیا تھا لے کر صبح کی پہلی کِرن
تم نے مجھ کو ڈوبتے سورج کے منظر میں رکھا 
جب کوئی مجھ سے ہوا ہے برتری کا مُدعی
میں نے اس کو اپنے ساۓ کے برابر میں رکھا 
وسعتِ صحرا میں محسنؔ! بے نشانی کا تھا خوف
جان کر دریا نے اپنا گھر سمندر میں رکھا

محسن بھوپالی 

2 comments:

  1. آپ اردو ادب کی بے حد و حساب خدمت کر رہے ہیں۔ انشا اللہ اردو زبان ہمیشہ آپ کو یاد رکھے گی اورشعر و سخن کے دلدادگان ہمیشہ آپ کے ممنون رہیں گے۔

    ReplyDelete
    Replies
    1. السلام علیکم برادر بخاری، آپ کے الفاظ میرے لیے سرمایہ ہیں، ان شاء اللہ مجھ جنتا ہو سکا میں اردو زبان کی ترویج کے لیے اپنا کردار ادا کرتا رہوں گا۔

      Delete