صفحات

Friday, 14 November 2014

سرِ صحرائے جاں بے چین ہے تصویر کوئی

سرِ صحرائے جاں بے چین ہے تصویر کوئی
بیاضِ آرزو میں لکھ نئی تحریر کوئی
ازل سے ایک بے منزل سفر میں ساتھ اپنے
کچھ ایسے خواب ہیں جن کی نہیں تعبیر کوئی
قدم بڑھتے نہیں احساس کی سرحد سے آگے
بندھی ہے پائے عرضِ شوق میں زنجیر کوئی
کسی بخشے ہوئے خلعت کا جب بھی سوچتا ہوں
مجھے اندر سے کر دیتا ہے لِیرو لِیر کوئی
تِرے سائے میں آتے ہی گِنیں سب سانس اپنے
تِرا دستِ نوازش ہے کہ ہے شمشیر کوئی
معین ہے یہاں عالیؔ! حدِ پرواز سب کی
مسلسل پھینکتا جاتا ہے آگے تِیر کوئی

جلیل عالی

No comments:

Post a Comment