صفحات

Sunday, 16 November 2014

بس اب تو خواب کی صورت ہے آرزوئے طرب

بس اب تو خواب کی صورت ہے آرزوئے طرب
وہ یاس ہے کہ تمنا محال ہے اب کے
مثال سنگ سرِ راہ ہم ہیں مہر بلب
ستم کشانِ سفا کا یہ حال اب کے
کسے بتائیں کہ ہم ہیں ہوئے جو کشتہ شب
کہاں نظر کو بھی اذنِ سوال ہے اب کے
شکستِ ذات کے انمول ذائقوں کے سبب
خیال ہے نہ ہجومِ خیال ہے اب کے
نہ زخمِ جاں کی ضرورت نہ سیلِ غم کی طلب
کہ میرے پاس جدائی کا سال ہے اب کے

خالد شریف

No comments:

Post a Comment