بس اب تو خواب کی صورت ہے آرزوئے طرب
وہ یاس ہے کہ تمنا محال ہے اب کے
مثال سنگ سرِ راہ ہم ہیں مہر بلب
ستم کشانِ سفا کا یہ حال اب کے
کسے بتائیں کہ ہم ہیں ہوئے جو کشتہ شب
کہاں نظر کو بھی اذنِ سوال ہے اب کے
شکستِ ذات کے انمول ذائقوں کے سبب
خیال ہے نہ ہجومِ خیال ہے اب کے
نہ زخمِ جاں کی ضرورت نہ سیلِ غم کی طلب
کہ میرے پاس جدائی کا سال ہے اب کے
وہ یاس ہے کہ تمنا محال ہے اب کے
مثال سنگ سرِ راہ ہم ہیں مہر بلب
ستم کشانِ سفا کا یہ حال اب کے
کسے بتائیں کہ ہم ہیں ہوئے جو کشتہ شب
کہاں نظر کو بھی اذنِ سوال ہے اب کے
شکستِ ذات کے انمول ذائقوں کے سبب
خیال ہے نہ ہجومِ خیال ہے اب کے
نہ زخمِ جاں کی ضرورت نہ سیلِ غم کی طلب
کہ میرے پاس جدائی کا سال ہے اب کے
خالد شریف
No comments:
Post a Comment