صفحات

Wednesday, 7 October 2015

ہر چیز کو شمار و عدد سے نہیں بڑھا

ہر چیز کو شُمار و عدد سے نہیں بڑھا
قیمت وفا کی داد و ستد سے نہیں بڑھا
چُھوتا ہوں آسماں کو تو حیرت ہی اس میں کیا
میرا تو قد یہی ہے، میں قد سے نہیں بڑھا
میرے لیے بنائی ہے اس نے یہ کائنات
تارے بھی توڑ لوں تو میں حد سے نہیں بڑھا
کتنا ہے ناتواں مِرا دُشمن، کہ عُمر بھر
آگے کبھی مقامِ حسد سے نہیں بڑھا
شاہِ نجف سے جا کے زکوٰۃِ جلال مانگ
لشکر کا رُعب زاد و رسد سے نہیں بڑھا
مالک! مِرے حوالے سے کر مُعتبر مجھے
عزت مِری وساطتِ جَد سے نہیں بڑھا
سالکؔ گزر کو کافی ہے مجھ کو مِرا لہُو
نفقہ مِرا گدائی کی مَد سے نہیں بڑھا

ابرار سالک

No comments:

Post a Comment