صفحات

Wednesday, 7 October 2015

اسی طريق سے پھر شش جہات جوڑتے ہيں

اسی طريق سے پھر شش جِہات جوڑتے ہيں
چلو یہ ٹُوٹی ہوئی کائنات جوڑتے ہيں
چلو لگاتے ہيں مخمل ميں ٹاٹ کا پيوند
چلو يہ ارض و سما ساتھ ساتھ جوڑتے ہيں
يہ لوگ پيسے سے پيسہ مِلا کے رکھتے ہيں
ہم ايسے وحشی تو بس پات پات جوڑتے ہيں
اب اپنے ساتھ رہے کوئی يا بچھڑ جائے
کسی کی کرتے ہيں مِنت نہ ہاتھ جوڑتے ہيں
جنوں ميں نامۂ دل چاک کر دیا تھا، سو اب
اک ايک پرزہ بصد احتياط جوڑتے ہيں
يہی کہ اب نہيں مِلنا، کبھی نہيں مِلنا
تمہاری بات ميں ہم اپنی بات جوڑتے ہيں
اگر نہيں ہے تعلق کوئی، تو پھر سالکؔ
يہ لوگ کيوں مِرے دُکھ اس کے ساتھ جوڑتے ہيں

ابرار سالک

No comments:

Post a Comment