صفحات

Wednesday, 7 October 2015

کرب کے شہر میں رہ کر نہیں دیکھا تو نے

کرب کے شہر میں رہ کر نہیں دیکھا تُو نے
کیا گزرتی رہی ہم پر نہیں دیکھا تُو نے
کانچ کا جسم لیے شہر میں پھِرنے والے
دستِ حالات میں پتھر نہیں دیکھا تُو نے
اے مجھے صبر کے آداب سکھانے والے
جب وہ بچھڑا تھا وہ منظر نہیں دیکھا تُو نے
بیکراں کیوں نہ لگیں تجھ کو یہ جوہڑ تیرے
بات یہ ہے کہ سمندر نہیں دیکھا تُو نے
جانے والوں کو صدائیں نہیں دیتا میں بھی
تُو بھی مجھ سا ہے کہ مُڑ کر نہیں دیکھا تُو نے
ؔتُو نے دیکھا ہے مقدر کا ستارہ خاور
پر ستارے کا مقدر نہیں دیکھا تُو نے

خاور زیدی 

No comments:

Post a Comment