تیز ہو جاتا ہے خوشبو کا سفر شام کے بعد
شہر میں پھول بھی کھلتے ہیں مگر شام کے بعد
اس سے دریافت نہ کرنا کبھی دن کے حالات
صبح کا بھُولا جو لوٹ آیا ہو شام کے بعد
میرے بارے میں کوئی کچھ بھی کہے، سب منظور
تم نہ کر پاؤ گے اندازہ تباہی کا مِری
تم نے دیکھا ہی نہیں کوئی کھنڈر شام کے بعد
قد سے بڑھ جائے جو سایہ تو برا لگتا ہے
اپنا سورج وہ اٹھا لیتا ہے ہر شام شام کے بعد
یہی ملنے کا سمے بھی ہے، بچھڑنے کا بھی
مجھ کو لگتا ہے بہت اپنے سے ڈر شام کے بعد
کرشن بہاری نور
No comments:
Post a Comment