Sunday, 15 November 2015

تیز ہو جاتا ہے خوشبو کا سفر شام کے بعد

تیز ہو جاتا ہے خوشبو کا سفر شام کے بعد
شہر میں پھول بھی کھلتے ہیں مگر شام کے بعد
اس سے دریافت نہ کرنا کبھی دن کے حالات
صبح کا بھُولا جو لوٹ آیا ہو شام کے بعد
میرے بارے میں کوئی کچھ بھی کہے، سب منظور
مجھ کو رہتی ہی نہیں اپنی خبر شام کے بعد
تم نہ کر پاؤ گے اندازہ تباہی کا مِری
تم نے دیکھا ہی نہیں کوئی کھنڈر شام کے بعد
قد سے بڑھ جائے جو سایہ تو برا لگتا ہے
اپنا سورج وہ اٹھا لیتا ہے ہر شام شام کے بعد
یہی ملنے کا سمے بھی ہے، بچھڑنے کا بھی
مجھ کو لگتا ہے بہت اپنے سے ڈر شام کے بعد

کرشن بہاری نور

No comments:

Post a Comment