وہ کہاں ہوتا ہے خوش پوجا بغیر
کچھ نہیں مل پائے گا سجدہ بغیر
یہ تعجب ہے کہ منزل مل گئی
زندگی چلتی رہی رستہ بغیر
کس قدر آسان ہے، مشکل بھی ہے
کیا کہوں اس نور کے عالم کو میں
جیسے اک سیلاب ہو دریا بغیر
اس کو ڈھونڈا ہے، پتا جس کا نہ تھا
اک خزانہ مل گیا نقشہ بغیر
یہ ہنر یہ فن اسے آتا ہے خوب
ہر نظر سے چھپ گیا پردہ بغیر
ایک ایسی روشنی کی ہے تلاش
جسم ہو جائے جہاں سایہ بغیر
کرشن بہاری نور
No comments:
Post a Comment