لاکھ غم سینے سے لپٹے رہے ناگن کی طرح
پیار سچا تھا مہکتا رہا چندن کی طرح کی طرح
تجھ کو پہچان لیا ہے، تجھے پا بھی لوں گا
اک جنم اور ملے گر اسی جیون کی طرح
اب کوئی کیسے پہنچ پائے گا تیرے غم تک
شام جب رات کی محفل میں قدم رکھتی ہے
بھرتی ہے مانگ میں سیندور سہاگن کی طرح
مسکراتے ہو مگر سوچ لو اتنا اے نورؔ
سود لیتی ہے مسرت بھی مہاجن کی طرح
کرشن بہاری نور
No comments:
Post a Comment