صفحات

Sunday, 15 November 2015

یہ اہل دل کے جو چہروں پہ نور ہوتا ہے

یہ اہلِ دل کے جو چہروں پہ نور ہوتا ہے
کوئی ملال، کوئی غم ضرور ہوتا ہے
جو بار بار یہ دل ناصبور ہوتا ہے
ادھر سے کوئی اشارہ ضرور ہوتا ہے
تمام عمر کا صبر و قرار اس پہ نثار
وہ اس طرح جو تِرے حضور ہوتا ہے
خلافِ منزلِ جاناں قدم اٹھے ہی نہیں
جنونِ عشق بڑا باشعور ہوتا ہے
نصیب ہی نہ ہوئی ہم سیاہ بختوں کو
وہ رات جس کے چراغوں میں نور ہوتا ہے
شمیمؔ ترکِ محبت کے بعد بھی اکثر
اک اضطراب کا عالم ضرور ہوتا ہے

شمیم جے پوری

No comments:

Post a Comment