صفحات

Sunday, 15 November 2015

نہ پوچھ کب سے یہ دم گھٹ رہا ہے سینے میں

نہ پوچھ کب سے یہ دم گھٹ رہا ہے سینے میں
کہ موت کا سا مزا آ رہا ہے جینے میں
نجانے کیوں یہ تلاطم ڈبو نہیں دیتا
کہ ناخدا بھی نہیں اب مِرے سفینے میں
قدم قدم پہ بچایا ہے ٹھوکروں سے مگر
خراش آ ہی گئی دل کے آبگینے میں
مہک رہی ہے صبا صبح سے نجانے کیوں
نہا کے آئی ہے شاید تِرے پسینے میں
شمیمؔ ساحل و کشتی سے کچھ امید نہ رکھ
کوئی وقار نہیں اس طرح سے جینے میں

شمیم جے پوری

No comments:

Post a Comment