صفحات

Sunday, 15 November 2015

ہمارے ساتھ یہ ہمدم تمام عمر رہا

ہمارے ساتھ یہ ہمدم تمام عمر رہا
کوئی رہا نہ رہا، غم تمام عمر رہا
وہ ایک لمحہ کہ جس میں ملی تھی ان سے نظر
اس ایک لمحے کا عالم تمام عمر رہا
نجانے کون سی لغزش ہوئی جوانی میں
نظام زیست کا برہم تمام عمر رہا
خدا کا شکر کبھی زخمِ دل نہ مرجھائے
اور اس بہار کا موسم تمام عمر رہا
ہمارے بعد تجھے کون اتنا چاہے گا
خدا گواہ، یہی غم تمام عمر رہا
تمہارے بعد بہاریں اداس اداس رہیں
چمن میں گلۂ شبنم تمام عمر رہا

شمیم جے پوری

No comments:

Post a Comment