ہمارے ساتھ یہ ہمدم تمام عمر رہا
کوئی رہا نہ رہا، غم تمام عمر رہا
وہ ایک لمحہ کہ جس میں ملی تھی ان سے نظر
اس ایک لمحے کا عالم تمام عمر رہا
نجانے کون سی لغزش ہوئی جوانی میں
خدا کا شکر کبھی زخمِ دل نہ مرجھائے
اور اس بہار کا موسم تمام عمر رہا
ہمارے بعد تجھے کون اتنا چاہے گا
خدا گواہ، یہی غم تمام عمر رہا
تمہارے بعد بہاریں اداس اداس رہیں
چمن میں گلۂ شبنم تمام عمر رہا
شمیم جے پوری
No comments:
Post a Comment